زندگی: خیال، وقت اور انسان کیا ہے ؟
زندگی شاید کسی ٹھوس شے کا نام نہیں،
بلکہ ایک خیال ہے
خیالات کی وہ روشنی جس میں وجود خود کو پہچانتا ہے۔
ہر لمحہ ایک جستجو ہے،
ہر سانس ایک نئی اطلاع،
اور ہر سوچ ایک نیا دروازہ۔
انسان لمحہ بہ لمحہ
نئی سوچ، نیا ارادہ، نیا عمل تخلیق کرتا ہے،
اور اسی تخلیق کے عمل کو وہ زندگی کہتا ہے۔
فائدہ اور نقصان،
بہتر مستقبل کی امید،
محبت کی کشش یا نفرت کا بوجھ.
یہ سب دراصل خیالات کی لہریں ہیں
جو شعور کے سمندر میں اٹھتی اور ڈوب جاتی ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ انسان خواب دیکھتا کیوں ہے،
سوال یہ ہے کہ
کیا وہ خوابوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے
خود زندگی کو پیچھے چھوڑ نہیں دیتا؟
آج ہے, یہی واحد یقین۔
کل ہوگا، یہ محض ایک تصور۔
آج جو کہا گیا،
وہ کل یاد بن جائے گا۔
رات ہے، دن ہوگا،
مگر وہ رات کہاں گئی
جس میں ہم نے خود سے بات کی تھی؟
وقت ہاتھ میں ریت کی طرح ہے
جتنا مضبوطی سے پکڑو،
اتنی ہی تیزی سے پھسل جاتا ہے۔
اور اسپیس؟
وہ ایک خاموش قفس ہے
جس میں جسم قید ہے
اور خیال پرندے کی طرح آزاد۔
تو کیا انسان آزاد ہے؟
شاید نہیں
کم از کم جسمانی طور پر نہیں۔
مگر خیال میں؟
خیال میں وہ زمان و مکان سے ماورا ہے۔
وہ ماضی کو چھو سکتا ہے،
مستقبل میں سانس لے سکتا ہے،
اور حال کو نظرانداز بھی کر سکتا ہے۔
زندگی دراصل
خیالات کا ایک مسلسل بہاؤ ہے—
جس میں جذبات رنگ بھرتے ہیں،
خواہشیں سمت دیتی ہیں،
اور شعور معنی تلاش کرتا رہتا ہے۔
اور شاید
زندگی کا سب سے گہرا فلسفہ یہی ہے:
کہ انسان حقیقت میں نہیں،
بلکہ خیال میں جیتا ہے—
اور جب خیال رک جائے،
تو زندگی محض ایک خاموش وجود بن کر رہ جاتی ہے.
تو دوستو آپ کی نظر میں میں زندگی کیا ہے جواب ضرور دیں ؟
میری نظر میں زندگی محض ایک خیال ہے جو پازیٹیو یا نیگیٹو ہو سکتا ہے
کیا ہم اس خیال کو کنٹرول کر سکتے ہیں ؟
اس سوال کا جواب ایک اور آرٹیکل میں دوں گا آپ اظہار رائے کر سکتے ہیں آپ کی رائے محترم ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا